بیتا ہوا اک لمحہ
Poet: Wamiq Kakakhel By: Wamiq Kakakhel, Rawalpindiدکھ دین ہے اس اک لمحے کی
جب کھیل محبت کا کھیلا
جب تم سے ہم کو پیار ہوا
جب تم نے دل میں ڈیرہ کیا
وہ اک لمحہ جو بن کے خوشبو
موسم جاں میں پھیل گیا
اب پہروں آنکھیں بند کئے
ان آتے جاتے لمحوں کو
ہم اکثر گنتے رہتے ہیں
دم سادھے تکتے رہتے ہیں
بس ایک ہی خواہش کے مارے
اے کاش کوئی تو لمحہ ہو
ان آتے جاتے لمحوں میں
اس بیتے لمحے کے جیسا
اس لمحے کو ہم قید کریں
اور واپس تم کو لوٹا دیں
پھر اپنے آپ میں کھو جائیں
پھر پہلے جیسے ہو جائیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






