بیتی گھڑیاں یا د کروں میں جب بھی بیٹھ اکیلی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKبیتی گھڑیاں یا د کروں میں جب بھی بیٹھ اکیلی
میرے من کے اندر جیسے کھلنے لگے چمبیلی
کِس نے تجھ کو سمجھا ،کِس نے تیرے دُکھ کو جانا ؟
جو بھی بولا بس یہ بولا عورت ایک پہیلی
تنہایٔ کا درد جہاں میں تنہا سہتے سہتے
دِل اِنسان کا بن جاتا ہے اِک ویران حویلی
خود ہی اپنا درد بٹاؤں خود کو ہی سمجھاؤں
نہ کویٔ ہمدرد ہے میرا نہ ہی سجن بیلی
کِس نے لوٹا چین تمہارا کِس نے نیند اُڑایٔ ؟
کِس نے تجھ کو درد دیا ہے کچھ تو بول سہیلی
دھیرے دھیرے چھپتا جاۓ چاند گھنے بادل میں
ایسے وہ شرماۓ جیسے دُلہن نییٔ نو یلی
اپنے رب سے مانگا میں نے جب جب بھی کچھ مانگا
اور کِسی کے آگے تو نہ پھیلی کبھی ہتھیلی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






