بیتی گھڑیاں یا د کروں میں جب بھی بیٹھ اکیلی

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

بیتی گھڑیاں یا د کروں میں جب بھی بیٹھ اکیلی
میرے من کے اندر جیسے کھلنے لگے چمبیلی

کِس نے تجھ کو سمجھا ،کِس نے تیرے دُکھ کو جانا ؟
جو بھی بولا بس یہ بولا عورت ایک پہیلی

تنہایٔ کا درد جہاں میں تنہا سہتے سہتے
دِل اِنسان کا بن جاتا ہے اِک ویران حویلی

خود ہی اپنا درد بٹاؤں خود کو ہی سمجھاؤں
نہ کویٔ ہمدرد ہے میرا نہ ہی سجن بیلی

کِس نے لوٹا چین تمہارا کِس نے نیند اُڑایٔ ؟
کِس نے تجھ کو درد دیا ہے کچھ تو بول سہیلی

دھیرے دھیرے چھپتا جاۓ چاند گھنے بادل میں
ایسے وہ شرماۓ جیسے دُلہن نییٔ نو یلی

اپنے رب سے مانگا میں نے جب جب بھی کچھ مانگا
اور کِسی کے آگے تو نہ پھیلی کبھی ہتھیلی
 

Rate it:
Views: 729
19 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL