بیقراری
Poet: By: Shamas Pervaiz, hafez abad آ سپنوں کے معمار تمہیں آواز دیتے ہیں
میرے گھر کے در و دیوار تمہیں آواز دیتے ہیں
رات بھر ہمارے بے چین ہو کے دل سے
جب اُٹھتے ہیں غبار تمہیں آواز دیتے ہیں
دیوانگی میں پھول کو جب چومتا ہے بھنورا
ہم ہو کے بےقرار تمہیں آواز دیتے ہیں
آغوش میں جاتا ہے جب بادلوں کی چاند
میری بانہوں کے حصار تمہیں آواز دیتے ہیں
چہرے پہ سجا کر یہ رنج و بیقراری
ہم بن کے اِشتہار تمہیں آواز دیتے ہیں
ہنسی میں اُبھر کر کبھی آنسووں میں ڈھل کے
میری غزلوں کے اِشعار تمہیں اواز دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






