بیٹھے ہیں
Poet: Ainee Tahir By: Ainee Tahir, Karachiجو چاہ کو تری دل میں چھپائے بیٹھے ہیں
وہ سب کچھ اپنا تجھی کو بنائے بیٹے ہیں
نہیں ہے ان کو فکر اب جہان والوں کی
ترے لیے جو یہ دنیا بھلائے بیٹھے ہیں
نہ ان کو راس ہے کوئی خوشی نہ کوئی غم
کسی کے غم کو جو دنیا بنائے بیٹھے ہیں
وہ خوش نصیب ہے جس کو ملا ہے وصلِ یار
فراقِ یار میں ہم جاں گنوائے بیٹھے ہیں
امید ہے کہ ملے گا ہمیں تو مر کے سکوں
ہم ایک آس پر سب کچھ لٹائے بیٹے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






