بیٹی
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississauga تم تا ز گی ہو روح کی ، راحت ہو جان کی
بیٹی تمہا ر ے دم سے ہے رونق مکان کی
جب سے تر ی اُمید تر ا ا ِنتظار تھا
آ نکھو ں کو تھا سکون نہ د ل کو قر ار تھا
پا یا تجھے خد ا سے تو ا یسا لگا ہمیں
اُ تر ی ہما رے گھر میں پرَی آ سمان کی
بیٹی تمہارے دَم سے ہے رونق مکان کی
د یکھا تجھے تو بھو ل گیا مہر و ما ہ کو
خو شبو کہو ں کہ ر نگ کہوں تیری چا ہ کو
دل جھوُم جھوُم جا تا ہے آ وا ز پہ تری
ملتی ہے تیرے چہرے سے ٹھنڈ ک نگاہ کو
تجھ سے چمک دَمک ہے مرِی آ ن بان کی
بیٹی تمہارے دَم سے ہے رونق مکان کی
تم ر نگ ہو شفق کا ، شگفتہ بہا ر ہو
سو ر ج کی ا ک کرن ہو ، سحر کا نکھا ر ہو
بہنا ہو ا پنے بھا ئی کی ، بھا ئی کا پیار ہو
تم اپنے و ا لد یں کے د ل کا قر ا ر ہو
ز ینت ہو ا پنے پیا ر بھر ے گلستا ن کی
بیٹی تمہارے دَم سے ہے رونق مکان کی
د ا ئم تمہا ر ے ساتھ ہما ر ی دعا ر ہے
سا یہ ر ہے نبی کا ، محا فظ خدا ر ہے
برکھا پڑ اؤ ڈ ال دے تیرے دُوا ر پر
چاہت کے پھو ل سے ترا آ نگن بھرا رہے
خو شیا ں نصیب ہو ں تمہیں دونوں جہان کی
بیٹی تمہارے دَم سے ہے رونق مکان کی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






