بیٹیاں تو رب کی رحمت ہوتی ہیں
Poet: rizwana By: rizwana, torontoبیٹیاں
نہ گھبرانا ان سے
پریوں جیسی یہ پھلوں جیسی سب رنگ ہیں ان سے
یہ انعام خدا کا یہ تو نعمت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
بیٹیاں تو رب کی رحمت ہوتی ہیں
بابا کی آنکھ کا تارا ماں کے دل کی زینت ہوتی ہیںی
نہ گھبرانا ان سے
ان سے آنگنا گھر کا مہکے سارا گلشن چہکے
یہ رنگوں جیسی تتلیوں جیسیی یہ محبت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ پھول گلاب کا یہ کؤل جیسی یہ مینا جیسی
یہ چندا جیسی یہ تاروں جیسی رب کی یہ عنایت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ سکوں دل کا یہ ٹھنڈک آنکھوں کی
یہ پیار کا ساگر یہ دریا محبت کا یہ تو بس چاہت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ بھائوں کی بہنا یہ ماں کی ممتا
ارے پاؤں کے نیچے ان کے جنت ہوتی ہے
نہ گھبرانا ان سے
ایثار وفا قربانی ہیں یہ سب کے دلوں کی رانی
نہی ان سا کؤی یہ مریم عاءشہ حدیجہ ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
بیٹیاں تو رب کی رحمت ہوتی ہیں
بابا کی آنکھ کا تارا ماں کے دل کی زینت ہوتی ہیںی
پریوں جیسی یہ پھلوں جیسی سب رنگ ہیں ان سے
یہ انعام خدا کا یہ تو نعمت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
پریوں جیسی یہ پھلوں جیسی سب رنگ ہیں ان سے
یہ انعام خدا کا یہ تو نعمت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سےبیٹیاں تو رب کی رحمت ہوتی ہیں
بابا کی آنکھ کا تارا ماں کے دل کی زینت ہوتی ہیںی
نہ گھبرانا ان سے
ان سے آنگنا گھر کا مہکے سارا گلشن چہکے
یہ رنگوں جیسی تتلیوں جیسیی یہ محبت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ پھول گلاب کا یہ کؤل جیسی یہ مینا جیسی
یہ چندا جیسی یہ تاروں جیسی رب کی یہ عنایت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ سکوں دل کا یہ ٹھنڈک آنکھوں کی
یہ پیار کا ساگر یہ دریا محبت کا یہ تو بس چاہت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ بھائوں کی بہنا یہ ماں کی ممتا
ارے پاؤں کے نیچے ان کے جنت ہوتی ہے
نہ گھبرانا ان سے
ایثار وفا قربانی ہیں یہ سب کے دلوں کی رانی
نہی ان سا کؤی یہ مریم عاءشہ حدیجہ ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
بیٹیاں تو رب کی رحمت ہوتی ہیں
بابا کی آنکھ کا تارا ماں کے دل کی زینت ہوتی ہیںی
پریوں جیسی یہ پھلوں جیسی سب رنگ ہیں ان سے
یہ انعام خدا کا یہ تو نعمت ہوتی نہ گھبرانا ان سے
پریوں جیسی یہ پھلوں جیسی سب رنگ ہیں ان سے
یہ انعام خدا کا یہ تو نعمت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
بیٹیاں تو رب کی رحمت ہوتی ہیں
بابا کی آنکھ کا تارا ماں کے دل کی زینت ہوتی ہیںینہ گھبرانا ان سے
ان سے آنگنا گھر کا مہکے سارا گلشن چہکے
یہ رنگوں جیسی تتلیوں جیسیی یہ محبت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ پھول گلاب کا یہ کؤل جیسی یہ مینا جیسی
یہ چندا جیسی یہ تاروں جیسی رب کی یہ عنایت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ سکوں دل کا یہ ٹھنڈک آنکھوں کی
یہ پیار کا ساگر یہ دریا محبت کا یہ تو بس چاہت ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
یہ بھائوں کی بہنا یہ ماں کی ممتا
ارے پاؤں کے نیچے ان کے جنت ہوتی ہے
نہ گھبرانا ان سے
ایثار وفا قربانی ہیں یہ سب کے دلوں کی رانی
نہی ان سا کؤی یہ مریم عاءشہ حدیجہ ہوتی ہیں
نہ گھبرانا ان سے
بیٹیاں تو رب کی رحمت ہوتی ہیں
بابا کی آنکھ کا تارا ماں کے دل کی زینت ہوتی ہیںی
پریوں جیسی یہ پھلوں جیسی سب رنگ ہیں ان سے
یہ انع
ام خدا کا یہ تو نعمت ہوتی ہیں
correction
پھولوں پڑھا جائے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






