بے بسی
Poet: ABDUL SALAM KHAN By: Abdul Salam Khan, Karachiسنو!! جب رات آتی ہے
کوئی محفل سجھتی ہے
تب کوئی ذکر عشق چھیڑے
تو مجھ کو ایسا لگھتا ہے
گویا مولوی عشق بیٹا ھو
مجھ پر فتوئ وہ دیتا ہے
تو اپنے عشق کا قاتل
تو اس کے عشق کا قاتل
اپنے آرمانوں کا قاتل
اس کے آرمانوں کا قاتل
تم قاتل ھو تم قاتل ھو
اپنے بھی خوابوں کے قاتل
اس کے بھی خوابوں کے قاتل
فتویں میں ساری ہی سن کر
جواب بس اتنا دیتا ہوں
صاحب! سب ٹھک کہا تم نے
پر اتنا کہتا ہوں کہ. بے بسی تھی
بے بسی تھی، بے بسی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






