بے ساعت ہے مگر
Poet: سیدhammad razaنقوی By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadتحریر رضا بے ساحت ہے مگر
حریف انگشت بدنداں رہ جائیں گے
جب ہم نکلے جہاں سے عزر ایسا ہو گا
لوگ ہماری رخصتی پہ پریشاں رہ جائیں گے
اس اخلاص ضیافت کا مشرق کو جب محصل ملے گا
تاریخ کے کسی نکڑ مے ہند و پاکستاں رہ جائیں گے
اس ردوقدح مے حد مقاصد سے نکل جائیں گے لوگ
آلام سے بھرے جہاں مے خالی مکاں رہ جائیں گے
جب گزر گیا وقت بہار اس قوم سے رضا
پھر کہاں یہ دوست مہرباں رہ جائیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






