بے نام سے رشتے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadبے نام سے رشتے پہ الزام تو آنا تھا
خواہش کو میرے دل کی چپ چاپ دبانا تھا
رکھے ہوتے لفافے میں بند پیار کے افسانے
کیوں دل کے محرم کو میرا حال سنانا تھا
ان پیار کے جذبوں کو سمجھے گا کوئی کیسے
اس آگ کے دریا میں بس ڈوب ہی جانا تھا
بدنام تو ہونا تھا محفل کا تقاضہ تھا
گستاخ نگاہوں کو ایک بار بتانا تھا
نکل آئے نہ پھر تاریک اندھیروں سے
محبت کے جذبے کو اس طرح دبانا تھا
پھر شوق سے کر جاتے سمندر کے حوالے
ریت پہ ساحل کی تمہیں گھر ایک بنانا تھا
اسے چھوڑ کے جانے کا غم مجھ کو بھی تھا ساجد
پاس میرے مگر کوئی بھی خاص بہانہ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






