بے وجہ نہ کہو میرا انتخاب اُسکو
Poet: ایمان شہزاد By: ایمان شہزاد, Islamabadبے وجہ نہ کہو میرا انتخاب اُسکو
میں کہتی ہوں دلکش ماہتاب اُسکو
وہ نہ ہو تو میری تحریریں بھی بے معنی ہیں
میں کہتی ہوں تلفظ کے اعراب اُسکو
دل جب بھی پوچھتا ہے چاہت کا سوال مجھ سے
میں کہتی ہوں ہر سوال کا جواب اُسکو
سمندر کا سا شوخ, نہ دریا کا سا مختصر ہے وہ
میں کہتی ہوں شفاف تالاب اُسکو
بہت خوبصورت ہے وہ دلنشین خیالات کا محور
میں کہتی ہوں سوچوں کا سیماب اُسکو
ایسا ہو کہ کبھی ختم نہ ہوں صفحے اس فسانے کے
میں کہتی ہوں ایک حسین خواب اُسکو
بن بیٹھا ہے وہ "حکمرانِ دل' کچھ اسطرح ایمانؔ
میں کہتی ہوں تم دے دو یہی خطاب اُسکو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






