بے وجہ نہیں ہوتا
Poet: UA By: UA, Lahoreنگاہ کا مسکرانا بے وجہ نہیں ہوتا
کسی پہ دل کا آنا بے وجہ نہیں ہوتا
کوئی تو بات ہوتی ہے جو کوئی اچھا لگتا ہے
کسی کا دل کو بھانا بے وجہ نہیں ہوتا
کسی کا یاد آنا بے وجہ نہیں ہوتا
بہت کچھ بھول جانا بے وجہ نہیں ہوتا
غموں کے دور میں بھی مسکرانا
یہ ہنسنا اور ہنسانا بے وجہ نہیں ہوتا
کبھی اپنوں کبھی بیگانوں سے
بنا لینا بہانہ بے وجہ نہیں ہوتا
کبھی اپنے ہی آپ سے اے دوست
آپ اپنا چھپانا بے وجہ نہیں ہوتا
یہ دل کی باتیں سر محفل اکثر
کسی سے کہتے جانا بے وجہ نہیں ہوتا
لب خورشید صبح دم اچانک
دیئے کی لو بجھانا بے وجہ نہیں ہوتا
کبھی آنکھوں کبھی چہرے کا عظمٰی
کسی سے یوں چھپانا بے وجہ نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






