بے وفا لوگ نہیں تھے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiبے وفا لوگ نہیں تھے جو جفاؤں سے لڑے
ملنے کی آرزو میں لوگ اداؤں سے لڑے
پھول بن کر یہ کلی اپنی بکھیرے نگہت
ٰآنے والی ہیں چمن میں یہ خزاؤں سے لڑے
باغ ویران ہوا تیز چلی ہے آندھی
اتنی طاقت ہی کہاں کوئی ہواؤں سے لڑے
ہو خسارہ ہی رہا ہے نہیِں بدلیں گے دن
حوصلہ کس میں ہے اپنی وہ خطاؤں سے لڑے
دوست دشمن کی نہ پہچان رہی ہے کوئی
وقت کے ساتھ نہیں بدلے وفاؤں سے لڑے
میرے حق میں نہ ہوا فیصلہ کوشش کی بہت
بک گیا جج بھی عدالت میں بلاؤں سے لڑے
ماں کے قدموں میں ہے جنت کرو خدمت ان کی
ہارتا وہ نہیں ماں کی جو دعاؤں سے لڑے
دھند کا راج ہے سردی بھی بہت ہے شہزاد
اب یہ ممکن ہی نہیں کوئی فضاؤں سے لڑے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






