بے کلی سی ہے
Poet: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati By: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati, Hyderabad, Pakistanزندگی میں کوئی کمی سی ہے
کس لیے دل کو بے کلی سی ہے
جب سے واقف ہوئے ہیں ہم ان سے
ساری دنیا ہی اجنبی سی ہے
اب تو آجا کہ مدتیں گزریں
زندگی کچھ تھکی تھکی سی ہے
ہم نے تو کچھ نہیں کہا ان سے
رخ پہ پھر کیوں یہ برہمی سی ہے
اس کی آنکھوں میں ڈوب کر دیکھو
ان میں گہرائی جھیل کی سی ہے
ہے زمانے سے دوستی ا ن کی
ایک ہم سے ہی دشمنی سی ہے
جینا مشکل ہے دورِ حاضر میں
ہر نفس گویا جاں کنی سی ہے
کیا کوئی اپنی جاں سے کھیل گیا
ان کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے
جانِ محفل تری جفاؤں کی
داستاں کچھ سنی سنی سی ہے
اس نے دیکھا ہے اس طرف شاید
دردِدل میں بھی کچھ کمی سی ہے
بس سماعت پہ اعتبار نہیں
یوں تو آواز آپ کی سی ہے
آدمی آدمی سے ہے نالاں
سب میں احساس کی کمی سی ہے
آمدِ صبح کا ہے غل یاسر
یہ سیاہ رات اب ڈھلی سی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






