تاریکیوں میں حسیں چاندنی بکھرنے لگی
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanہمیشہ حسن کے جلووں سے اجتناب کیا
زمانہ چھوڑ کے اک تیرا انتخاب کیا
آزردگی ہے سزا اس کو عمر بھر کے لیے
وفا کے جرم کا جس نے بھی ارتکاب کیا
تاریکیوں میں حسیں چاندنی بکھرنے لگی
جو چاند چہرہ کہیں اس نے بے نقاب کیا
میں کوئی شعر کہوں مجھ میں ایسی بات کہاں
ترے غموں نے مجھے صاحب کتاب کیا
بجھا رہا ہے مری زندگی کی قندیلیں
وہ ایک ذرہ جسے میں نے آفتاب کیا
مرا ہی خون مجھے بے سکون کرتا رہا
گئے دنوں کا کبھی میں نے جو حساب کیا
مری خاموشی کو تم اپنی عافیت سمجھو
کھلیں گے بھید تمھارے اگر خطاب کیا
یہی ہے شیوہ جہاں میں عظیم لوگوں کا
عدو کو بخش دیا ، اپنا احتساب کیا
کہاں تکبر شاہی ، کہاں جھکا ہوا سر
ترے غرور نے ہی تجھ کو آب آب کیا
سوال اتنا ہے زاہد سوال ہو کیسے
ہمیں تو ایسے سولوں نے لاجواب کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






