تب تم بہت یاد آتے ھو

Poet: شاہین مغل By: شاہین مغل, Gujranwala

 شام کے سرمئی اندھیرں میں
جب !پرندے چہچہا تے ھیں
صبا کےنرم نرم جھونکوں سے
جب ! پتے تھر تھراتے ھیں

تب تم بہت یاد آتے ھو
پھولوں کی حسیں وادیوں میں
جب ! تتلیاں گنگناتی ھیں
صبح کی مست مست ہوائیں
جب! دل کش راگ گا تی ھیں

تب تم بہت یاد آتے ھو

ہوا کوئی خزاں کا پتا
جب اپنے سنگ اڑا لے جاتی ھے
بارش کی گرتی بوند بوند
جب زمیں کی پیاس بجھا تی ھے

تب تم بہت یاد آتے ھو

چاند ! اپنی چاندنی سے
جب چار سو سحر پھیلاتا ھے
پھولوں کی مہکی مہکی شبنم میں
جب کوئی بھنورا جھوم جاتا ھے

تب تم بہت یاد آتے ھو

پتوں کی سر سراہٹ ، سریلے
جب اپنے راگ سناتی ھے
شاھیں! آنکھ نم نم ھو جاتی ھے
جب کوئل گیت وصل کے گاتی ھے

تب تم بہت یاد آتے ھو

Rate it:
Views: 4359
18 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL