تب ہی سرور کہہ سکیں گے “ہاں یہ نیا سال ہے“
Poet: Sarwar Farhan Sarwar By: Sarwar Farhan Sarwar, Karachiکل جو اپنا حال تھا، وہی تو اپنا حال ہے
ہم جیسوں کے لئے کیا خاک نیا سال ہے
جیب جس کی گرم ہے، اُس کی ہی ہستی نرم ہے
بخت اُس کے سخت ہیں، جو جیب سے کنگال ہے
جوہرِ قابل وہی، جس کی ہے پرچی بڑی
جُوتیوں میں بٹ رہی، اِس مُلک میں اب دال ہے
مسلک و فرقہ پرستی، اب حقیقت میں ہیں دیں
وحدتِ مسلم ہی یارو، مُسلماں میں خال ہے
قومیت کے بُتکدے میں، زَبان کے ہیں بُت سجے
ہر پُجاری اپنے مندر میں بڑا دجال ہے
خون ریزی، بم دھماکے، قتل و غارتگری
ارضِ پاکستان میں شیطان کا دھمال ہے
ہیں مسیحا خودغرض، ارباب سب غفلت میں ہیں
اہلِ دانش کی خرد بھی جان کا جنجال ہے
سب کے اپنے ہیں مُجاہد، سب کے اپنے ہیں شہید
قوم ہے اب مُنتشر، یک جہتی کا کال ہے
خوبیء تقدیر سے ہم کو ملا ہے وہ وطن
ماضی جس کا پُر شکوہ، تابندہ جس کا حال ہے
جس کا اک اک فرد ہے خورشید کی مانند ضیاء
اپنی ملت، جوہرِ محنت سے مالا مال ہے
ہے ضرورت کہ بدل ڈالیں ہم اپنی سوچ کو
محنتِ شاقہ میں مُضمر، قوم کا اقبال ہے
ہے جواں اُمید اب بھی، بہتری بھی آئے گی
اِک ذرا جُہدِ مسلسل کا ہی استعمال ہے
کاش کہ اِس ملک کی تقدیر بھی جائے سنور
تب ہی سرور کہہ سکیں گے “ہاں یہ نیا سال ہے“
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






