تجھ سے یا خود سے دور ہوئے ہم
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaتجھ سے یا خود سے دور ہوئے ہم
بنا توٹے نہال بڑے چُور ہوئے ہم
بے وفا کو بے وفا نہ کہہ سکے جب
تو اپنے لئے ہی زہریلا نسور ہوئے ہم
زندگی کی نئی منزل پہ پہنچ کر حیران ہوئے
کہاں پہنچے کہاں سے عبور ہوئے ہم
موسم بھی وہی رہا نہ بدلے دن و رات
ترے جانے کے بعد تنہا ضرور ہوئے ہم
تنگیاں ، مصیبتیں ، مسلے ، مسائل پہلے بھی تھے
مگر پہلے نہ کبھی اتنے مجبور ہوئے ہم
فریب دیے کس نے ، کس نے جرم کیے
اِسی سوچ میں قید بے قصور ہوئے ہم
اُس کی سہیلیوں نے بتایا اُسے اِک گدا بارے
نہال اِس طرح چرچہ ہوا مشہور ہوئے ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






