تجھے آرزو مجھے جستجو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiتجھے آرزو مجھے جستجو تو نے پا لیا میں نہ پا سکی
یہ ظرف ظرف کی بات ہے تو بھلا گیا میں نہ بھلا سکی
وہ چراغ جو جلتے رہے میرے پیار کی تھی نشانیاں
انھیں تو نے جاناں بجھا دیا پر میں نہ انھیں بجھا سکی
کبھی تو روئے گا ٹوٹ کر جب آئیں گے یاد پل حسین
جن پلوں کو عائش وہ جلا گیا میں نہ جلا سکی
اس کا پیار جیسے آندھیاں سب کچھ اڑا کر چلی گئیں
وہ میرا نقش تک مٹا گیا میں اس کا نقش نہ مٹا سکی
روداد یار سنانا بھی عائش ہنر کمال ہے
جو وہ بارہا دہرا گیا سر بازار میں نہ دہرا سکی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






