تجھے خدا کی قسم ھے اگر نقاب کرے
Poet: noor e azal By: noor e azal, faisalabadتجھے خدا کی قسم ھے اگر نقاب کرے
خدا بھی جوش میں آئے تیرا حساب کرے
اسی کےچہرے سے یہ آسماں ہوا روشن
اسی کا رخ ھے جو مہ تاب کو مہتاب کرے
خرد سے مانگنے آیا ھے روشنی پاگل
یہ اس کی سوچ ھے ذرے کو آفتاب کرے
میں تو صحرا ہوں میری پیاس نہ پوچھے کوئی
ھے کون جو مجھے اک گھونٹ میں سیراب کرے
سمجھ لے دال میں کالا ھے میرے نورازل
اگر وہ لہجے میں تھوڑا بھی اضطراب کرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






