تجھے دیکھنے کے بعد
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadhکسی سے کیوں کروں بات تجھے دیکھنے کے بعد
کیسے لگے گا کوئی اچھا تجھے دیکھنے کے بعد
زندگی کے اتنے حسین رنگ دکھا دیے تو نے
دنیا کے رنگ مدھم پڑ گئے تجھے دیکھنے کے بعد
فلک کے رنگ، سحر کا اجالا کیا چیز ہے
چاند بھی مانند پڑ گیا تجھے دیکھنے کے بعد
رقابت کیا ہے، کیوں بنتا ہے کوئی رقیب
آیا سمجھ مفہوم اسکا تجھے دیکھنے کے بعد
جاوید تو فقط جیتا تھا جینے کے لیئے
اسے جینا آیا بس تجھے دیکھنے کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







