تجھے پا کر جو کھویا ہے

Poet: Mohammed Naseem By: Mohammed Naseem, Muscat

تجھے پا کر جو کھویا ہے تجھے کھو کر جو پایا ھے
وہ تیرے غم کی د نیا تھی یہ تیرے غم کی مایا ھے

بڑے ہی دل شکستہ غم زدہ دیکھے پرندے وہ
خدا کا رزق جن کو دور گھر سے کھینچ لایا ھے

چلو تم دور ہو ھم سے تو ھم بھی دور ہیں تم سے
مگر ان دریوں نے بھی ہمیں جینا سکھا یا ھے

تیرا ہر غم میری دولت تیری یادیں میری دنیا
میں تیرے نام لکھتا ہوں جو سب میں نے کمایا ھے

میں دانے ان کو دیتا تھا وہ گاتی تھیں چہکتی تھیں
کہ جن چڑیوں کو اپنے باغ سے میں نے اڑایا ھے

دعائیں دیتی جاتی تھی وہ بڑھیا روتی جاتی تھی
کہ اس کے پیارے بیٹے نے علیحدہ گھر بسایا ھے

چلو گاؤں چلو جھومیں چلو ان کے قدم چومیں
کہ جن کے دم سے خوشیوں کا کوئی پیغام آیا ھے

پرندے چھوڑ کراب آشیاں اپنا کدھر جائں
کہ سانپوں نے ہمارے باغ میں ڈیرہ جمایا ھے

Rate it:
Views: 1004
27 Nov, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL