تجھے کہا نا
Poet: Noshi Gillani By: Shazia Hafeez, Attockتجھے کہا نا، کہ تو ہمیشہ سے رائیگاں مجھ کو سوچتا ہے وہ تو نہیں ہے
جو میری چاہت میری محبت کی دھوپ چھاؤں کا زاویہ ہے وہ تو نہیں ہے
تیری رفاقت کی چھاؤں میری حیات بھی کائنات بھی اور نجات بھی ہے
مگر یہ مجھ میں جو شاعری کی فضائیں ہموار کر رہا ہے وہ تو نہیں ہے
یہ چار شامیں جو معتبر سی فضا میں ہم نے گزار لیں ہیں تو یہ غنیمت
اب اس کے آگے جو منتظر اک چراغ آثار راستہ ہے وہ تو نہیں ہے
میں مانتی ہوں کہ میرے خوابوں میں تیری خوشبوں کی چاندنی بھی کہیں کہیں تھی
یہ شہر لیکن میرے حوالے سے جن کو تسلیم کر رہا ہے وہ تو نہیں ہے
وصال موسم کے خواب میں تھی یا ہجر کے بے نشاں دکھ کے عذاب میں ہوں
جو سایہ سایہ اکٹھا کر کے دکھوں سے مجھ کو نکالتا ہے وہ تو نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







