تجھے کیا کہوں
Poet: sarfaraz khan By: sarfaraz khan, mumbaiتجھے یونانیوں کی بت پرستی کہوں
یا اجنتا کے مجسموں کی مستی کہوں
تجھے جونپور کی پھلجھری کہوں
یا گجرات کی اک حسین پری کہوں
تجھے بہاروں کی گنگناتی چڑیا کہوں
یا جاپان کی مسکراتی اک گڑیا کہون
جسم جانا کو میں صراحی کہوں
یا خیام کی کوئی رباٰئی کہوں
تجھے اودھ کی شام الفت کہون
یا مجنو کے دل کی فرقت کہوں
تجھے بنگال کی اک پہیلی کہوں
یا کشمیر کی کوئی گلابی کلی کہوں
تجھے ممتاز کی ھمشیراہ کہوں
یا میدان جنگ کی شمشیراہ کہوں
تجھے تخت طاوس کا نگینہ کہوں
یا عرش منتہا کی زرینہ کہوں
تجھے مصر کی دوشیزئے انجم کہوں
یا ساز وفا کا کوئی ترنم کہون
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






