ترا مزاج تکبر کا شاخسانہ تھا ۔ "روپ کاکندن" ۔ منیرانور ۔
Poet: منیرانور By: Munir Anwar ... منیرانور, Liaquat Pur, Punjab, Pakistan.ترا مزاج تکبر کا شاخسانہ تھا
تعلقات کا منظر بدل ہی جانا تھا
گئے تھے ہم بھی فقط رسم ہی نبھانے کو
اور اس کا طرزِ عمل بھی مخاصمانہ تھا
کسی کے اونچے در و بام محترم تھے مگر
ہمیں ہوا کے لئے راستہ بنانا تھا
یہ خاک بغض و عداوت سے پاک رکھنی تھی
زمین دل پہ شجر پیار کا اگانا تھا
میں جانتا ہوں اُسے مجھ پہ اعتبار نہ تھا
اگرچہ مےرے گواہوں میں اک زمانہ تھا
یہ تُو نے ترکِ مراسم کی بات کیوں چھیڑی
ہمیں تو یوں بھی ترا شہر چھوڑ جانا تھا
کئی چراغ منڈیروں پہ جل بجھے انور
اُسے نہ آنا تھا ، شاید اُسے نہ آنا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






