تراش کر بھی نگینے نہ مول پایا کوئی
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتراش کر بھی نگینے نہ مول پایا کوئی
خریدنے انھیں بازار میں نہ آیا کوئی
ہے آندھیوں کی تو فطرت تباہ کر دینا
بجھے گا دیپ ہوا میں اگر جلایا کوئی
ہیں میرے خون کے رشتے بھی کتنے بیگانے
لگا ہے اپنا سا اس شہر میں پرایا کوئی
نجانے کتنے پرندوں کے گھونسلے بکھرے
بس ایک گھر کے لیے تھا شجر گرایا کوئی
گلوں پہ دیکھ کے شبنم لگا ہے یوں مجھ کو
کہ تم نے اشک مری یاد میں بہایا کوئی
مہک اٹھی ہے یہ بزم سخن چمن کی طرح
کسی نے شعروں کا غنچہ یہاں کھلایا کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






