ترانہ ایلاف لائیسم
Poet: سید بدیع الرحمٰن By: سید بدیع الرحمٰن, Skarduیہ ادارہ ہے، ایک تارا ہے ، جھومے بولے دل کیا نظارہ ہے
جھگا نے دیکھا ہے ، سب نے سمجھا ہے، اے ایلاف تجھ سا کون اچھا ہے
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہاتھوں میں ڈالے ہاتھ چلے، راہ جیسے بھی ہوں ہم نہ رکے
اوروں کے آگے سر نہ جھکے، استاد کی عزت کرتے رہے
ہے اللہ کا احسان، ایلاف زندہ باد
ہے اللہ کا احسان، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
مانند ستارہ ہر بچہ، میدان عمل میں چمکے رہے
ہے آنے والا دور حسیں، محنت اور خدمت کرتے رہے
ہے ہم سب کا اپہچان، ایلاف زندہ باد
ہے ہم سب کا اپہچان، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
جھولے آسمانوں کو، شہباز ہواؤں کا بن کے
سر کرتا ہے کے ٹوکو ، کوہ پیما سا بن کے
ہے شاہد کا فرمان، ایلاف زندہ باد
ہے شاہد کا فرمان، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہم اونچے جزبے رکھتے ہے، سیاجن کے رکھوالے بن کے
ہم دنیا کو دکھائیں گے، ایلاف کا شہزادہ بن کے
ہے بدیع کا ایماں ، ایلاف زندہ باد
ہے بدیع کا ایماں ، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






