ترانہ دل کا
Poet: Asad By: Asad, mpk چلو فھر سے لکھیں کوئی فسانہ دل کا۔۔۔۔
اپنی محبت میں ڈوبا کوئی ترانہ دل کا۔۔۔
وہ آٹھوں پہر کاٹنا تمھاری گلی کے چکر۔۔۔
کیوں نہ لکھیں وہ ھر ایک بہانہ دل کا۔۔۔۔
ہاں یاد ھیں تمہیں کچھ پیار کی وہ باتیں؟؟
یا بھول گئے تم ھر ایک خزانہ دل کا
ہاں مجھ کو یاد ھے وہ پہلی بار کا ملنا
میں کیسے بھول سکتا ھوں پل سہانہ دل کا
وہ تیری نگاہ ناز کا اٹھنا کیا لکھوں میں ؟؟
بس ھیچ تھا سارا عالم اپنے زمانہ دل کا
دل یہ اپنا چاہا کہ فدا تجھ پر کر دیں
زندگی کا اپنی لٹا دیں سارا خزانہ دل کا
اسد تا مرگ بھی بھلائے نہیں بھولے گا
یار وہ پہلی بار تیرا مسکرانا دل کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






