ترچھی نظروں

Poet: جواد انور شیخ By: Jawwad Anwar Sheikh , Karachi

ترچھی نظروں کے کٹاروں سے جو دیکھا اس نے
دل کو ھاتھوں میں دھڑکتے دیکھا ھم نے۔

ان کی تیرہ نگاھی سے زخمی ھوکر
خود چھلنی ھوتے جگر کو دیکھا میں نے

رہتی تھی جس پیڑ کی چھاؤں سدا ھم پر
اسی پیڑ کو خود کٹتے ھوئے دیکھا ھم نے

جس پانی پہ چراغوں کو جلایا تھا ھم نے۔
انہی لہروں سے چراغوں کو بجھا تے دیکھا ھم نے

جواد تڑپتا ھے کیوں زخم جگر کی چوٹوں سے
فریب دل پر رکھا ھے مرھم خود کیوں ھم نے
 

Rate it:
Views: 0
07 Sep, 2026
More Love / Romantic Poetry