ترچھی نظروں
Poet: جواد انور شیخ By: Jawwad Anwar Sheikh , Karachiترچھی نظروں کے کٹاروں سے جو دیکھا اس نے
دل کو ھاتھوں میں دھڑکتے دیکھا ھم نے۔
ان کی تیرہ نگاھی سے زخمی ھوکر
خود چھلنی ھوتے جگر کو دیکھا میں نے
رہتی تھی جس پیڑ کی چھاؤں سدا ھم پر
اسی پیڑ کو خود کٹتے ھوئے دیکھا ھم نے
جس پانی پہ چراغوں کو جلایا تھا ھم نے۔
انہی لہروں سے چراغوں کو بجھا تے دیکھا ھم نے
جواد تڑپتا ھے کیوں زخم جگر کی چوٹوں سے
فریب دل پر رکھا ھے مرھم خود کیوں ھم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






