ترک تعلق
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadترک تعلق
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
ذہن و دل کو صرف انا کے ہاتھوں گروی رکھ دینے سے
خود کو اپنے کمرے میں بند کر لینے سے
بستر پہ اوندھے منہ لیٹے
بین کریں جب یادیں
رشتوں کی میت پہ رو لینے سے
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
آنکھوں کے چوگردی حلقے
سارے راز اگل دیتے ہیں
ساری خوشیوں کےسپنے
اپنے اپنے رستے لیتے ہیں
ترک تعلق
ایسےتھوڑی ہو جاتا ہے
وصل کے لمحے
ہجر کے برسوں کو لوٹانے پڑتے ہیں
اور خوشیوں کے لے پالک بچے
وحشی غم کے پنجوں میں دینے پڑتے ہیں
نام وفا پہ
جتنی جھوٹی قسمیں کھائیں
ان کا بھی کفارہ دینا پڑتا ہے
بس خط واپس کر دینے سے
یا تحفے واپس کردینے سے
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







