ترک تعلقات کے بعد

Poet: Jabbar Anjum By: Jabbar Anjum, Sialkot

سنا ہے سامنے سب کے وہ اکثر مسکراتی ہے
مگر تنہائیوں میں ٹوٹ کر آنسو بہاتی ہے

میں الفت کو جہا ں کی گردشوں سے ماورا سمجھا
وہ اس کو وقت کے خانوں تلک محدود کہتی ہے

مجھے بھی چاند راتوں میں اکیلے پن سے وحشت ہے
سنا ہے بے کلی میں اس کی عادت خود کلامی ہے

کبھی باتوں ہی باتوں میں جو میرا نام آ جائے
وہ مر جھائے گلابوں کو سنا ہے چوم لیتی ہے

وہ ساون کی رتوں میں جب ملن کے گیت گاتی ہے
مجھے کچے گھڑ ے والی وہ سوہنی یاد آتی ہے

اسے تو چاند کی کرنوں سے اندھا پیار تھا انجم
سنا ہے اب اماوس کی راتوں کی بات کرتی ہے

انا کا مسئلہ درپیش ہے ورنہ حقیقت میں
اسے میری مجھے اس کی کمی محسوس ہوتی ہے

Rate it:
Views: 1379
21 Feb, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL