ترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو؟ اتنی کیا بیزاری ہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو؟ اتنی کیا بیزاری ہے
ہم نے کوئی شکایت کی ہے ؟ بے شک جان ہماری ہے

تم نے خود کو بانٹ دیا ہے کیسے اتنے خانوں میں
سچوں سے بھی دعا سلام ہے ، جھوٹوں سے بھی یاری ہے

کیسا ہجر قیامت کا ہے لہو میں شعلے ناچتے ہیں
آنکھیں بند نہیں ہو پاتیں ، نیند حواس پہ طاری ہے

تم حاصل کرلی ہو گی شاید اپنی منزلِ شوق
ہم تو سرابوں کے راہی ہیں اپنا سفر تو جاری ہے

پتھر دل بے حس لوگوں کو یہ نکتہ کیسے سمجھائیں
عشق میں کیا بے انت نشہ ہے یہ کیسی سرشاری ہے

تم نے کب دیکھی ہے تنہائی اور سناٹے کی آ گ
ان شعلوں میں اس دوزخ میں ہم نے عمر گذاری ہے
 

Rate it:
Views: 638
27 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL