تری آنکھ کے بھنور سے میں یہ سوچ کر ہی نکلی

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachi

ترے آستاں پہ اب بھی مری خندہ یہ جبیں ہے
مری سانس سانس تیری ، مرے دل میں تو مکیں ہے

تری آنکھ کے بھنور سے میں یہ سوچ کر ہی نکلی
"ترے میکدے میں ساقی وہ خمار اب نہیں ہے"

تری یاد کا وہ دریا ، مرے پیار کا سمندر
مری زندگی کہیں ہے ، تری زندگی کہیں ہے

میں نے مشکلوں سے سیکھا تری خواہشوں سے لڑنا
مری سوچ سے بھی بڑھ کر تری آرزو حسیں ہے

تری داستانِ الفت ، ہے یہ داستانِ عبرت
ترے پیار میں وفا کا یہاں راستہ حزیں ہے

تُو بھی اپنے اُس جہاں کے وہاں گیت گا لے وشمہ
یہاں میرے اِس چمن میں مری زندگی مکیں ہے

Rate it:
Views: 478
03 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL