تری طرح میں وعدوں سے مُکر جاؤں کیسے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaتری طرح میں وعدوں سے مُکر جاؤں کیسے
غم کی بزم میں جانِ جاں مسکراؤں کیسے
دیوارِ چین سے بڑی ہیں مجبوریاں میری
آؤں بھی تو میں تجھ تک آؤں کیسے
مسلسل ہو رہی ہے گفتگو دل کی ماضی سے
تری باتیں ، وہ راتیں میں سب بھلاؤں کیسے
میرے آگے کھڑا ہے ہجوم دشمنوں کا
میرے پیچھے ہیں اپنے خود کو بچاؤں کیسے
گونج رہی ہیں کانوں میں صدائیں تری
اتنے شور میں دل غمزدہ کو سلاؤں کیسے
لکھ تو لیتا ہوں میں تری یاد کے افسانے
سازِ جہان کے ساتھ افسانے میں گاؤں کیسے
رونا چاہتا ہوں میں آج تجھ سے لپٹ کر
نہالؔ مگر یہ ارمان بھی پورا کر پاؤں کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






