تری قاتل آنکھیں
Poet: humaira hammad By: humaira hammad, gujranwalaتو خاموش میں خاموش,بولی تری قاتل آنکھیں
اسم پھونکاپتھرکیامجھے,آہ تری قاتل آنکھیں
شھر کا شھر بو کھلا یا پر تا ھے مر ی جا ن
کوئی مانےنہ مانےسبب ھےتری قاتل آنکھیں
توپوچھتاھےکیوں ازل سےبےبس ھوں میں
جاکرآئینے سے پوچھ کیاھیں تری قاتل آنکھیں
پوچھادوستوں نےکس طلب زردھوئےھوپھرتے
حرمت عشق تھی ورنہ چلاتی تری قاتل آنکھیں
چھو ڑ ر ھےھیں تر ی خا طر یہ دنیا آج حمیرا
کہیں گے ر ب سے و جہ ھےتری قاتل آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






