تری وفا کی فضاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKتری وفا کی فضاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
دھڑکتے دل کی صداؤں میں مجھ کو رہنا ہے
نہ چھو سکیں گے مری گرد بھی جہاں والے
میں موجِ گل ہوں ہواؤں میں مجھ کو رہنا ہے
میں اس جہاں میں رہوں یا کہ نہ رہوں لیکن
ہر ایک دل کی دعاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
جو بڑھنے دے گا نہ قد مجھ سے ننھے پودے کا
اُسی درخت کی چھاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
میں چھوڑ کر چلی آؤں گی روشنی کا شہر
تمہارے چھوٹے سے گاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
ہیں میری روح کو جکڑے قدیم رسم و رواج
انہی گھٹی سی فضاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
کیا تھا جرم کبھی میں نے چاند چھونے کا
اب ایک عمر خلاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
میں جانتی ہوں نہیں یہ مرا جہاں لیکن
انا کے جھوٹے خداؤں میں مجھ کو رہنا ہے
چنی ہیں میں نے یہ راہیں خود اپنی مرضی سے
رۂ جفا کی سزاؤں میں مجھ کو رہنا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






