تری یادوں کی نقاشی کھرچ کر سہنے لگتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتری یادوں کی نقاشی کھرچ کر سہنے لگتے ہیں
جھلستی ریت پر ہم اک سمندر بہنے لگتے ہیں
عقیق و نیلم و لعل و جواہر پھینک آئے ہیں
سمندر میں عجب منظر شناور آنے لگتے ہیں
بتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا؟
کہا کرکے وفا کا خون،میں یہ لکھنے لگتے ہیں
تری یادیں تری باتیں سبھی اوراق پارینہ
ہم اک اک کر کے سب ہی دل سے کہنے لگتے ہیں
تلاطم ہو کہ طوفاں ہو یہ دریا پار کرنا ہے
ہم اپنی کشتیاں موجوں کے اندر لانے لگتے ہیں
تلاش ذات میں ہم کو کسی بازار ہستی میں
ترا ملنا ترا کھونا الگ ہی رونے لگتے ہیں
دیے کے اور ہواؤں کے مراسم کھل نہیں پاتے
نہیں کھلتا کہ ان میں سے یہ کس کے رسنے لگتے ہیں
گزارہ جب بھی قوموں نے کیا وشمہ برائی میں
سنو کیسا لگا اس شخص سے ہی ملنے لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






