ترے دشمنوں کی بھی آنکھیں ہیں نیچی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامیں بیٹھی ہوئی جب غزل لکھ رہی ہوں
مری سوچ کی سب بہاروں میں تو ہے
یہ کیا سلسلہ ہے ہمارا ، تمہارا
تمہاروں میں میں ہوں ، ہماروں میں تو ہے
میں نغمہ ترا تو مری ہی صدا ہے
مرے دل کے سب ساز ،تاروں میں تو ہے
ترے ذکر سے میری روشن ہے دنیا
فلک کے چمکتے ستاروں میں تو ہے
ترے دشمنوں کی بھی آنکھیں ہیں نیچی
کہ وشمہ حیا کے حصاروں میں تو ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






