ترے نقش دل سے مٹانے چلا ہوں
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگترے نقش دل سے مٹانے چلا ہوں
میں تقدیر پھر آزمانے چلا ہوں
جو تم نے لِکھے تھے محبت بھرے خط
وہ گنگا میں سارے بہانے چلا ہوں
میں غمگین رہ کے جلوں اور کتنا
میں خوش رہ کے اس کو جلانے چلا ہوں
نہیں کھیل بگڑے گا اب کوئی میرا
میں اب سارے حاسد بھگانے چلا ہوں
نیا خول چہرے پر اپنے چڑھا کے
میں لَیلیٰ کو مجنوں بنانے چلا ہوں
رقیبوں سے خود ہی کرے گا وہ نفرت
میں اک دام ایسا بِچھانے چلا ہوں
جلیں گے بھنیں گے مرے سارے دشمن
میں اِک آگ ایسی لگانے چلا ہوں
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا
یہ پیمان اپنا نبھانے چلا ہوں
اسے دیکھتے ہیں جو میلی نظر سے
میں سر ان کے تن سے اڑانے چلا ہوں
اسے صرف اپنا بنا کر میں دیپک
جہاں بھر سے جھگڑا مٹانے چلا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






