ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوں
Poet: آسی غازی پوری By: مصدق رفیق, Karachiترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوں
مگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوں
جہاں تک ہو تجھ سے جفا چاہتا ہوں
کہ میں امتحان وفا چاہتا ہوں
خدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں
میرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں
کہاں رنگ وحدت کہاں ذوق وصلت
میں اپنے کو تجھ سے جدا چاہتا ہوں
برابر رہی حد یار و محبت
کسی کو میں بے انتہا چاہتا ہوں
کہاں ہے تری برق جوش تجلی
کہ میں ساز و برگ فنا چاہتا ہوں
وہ جب کھو چکے مجھ کو ہستی سے اپنی
تو کہتے ہیں اب میں ملا چاہتا ہوں
جنون محبت میں پند عدو کیا
بھلا میں کسی کا برا چاہتا ہوں
طبیعت کی مشکل پسندی تو دیکھو
حسینوں سے ترک وفا چاہتا ہوں
جو دل میں نے چاہا تو کیا خاک چاہا
کہ دل بھی تو بے مدعا چاہتا ہوں
یہ حسرت کی لذت یہ ذوق تمنا
شب وصل ان سے حیا چاہتا ہوں
سوا اس کے میں کیا کہوں تم سے آسیؔ
کہ درویش ہو تم دعا چاہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






