تشنگی کو بڑھائے جا رہی ہے
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadزندگی مجھے آزمائے جا رہی ہے
موت قریب آئے جا رہی ہے
زرد پتوں پہ کوئی چل رہا ہے
یا بہار انہیں رلائے جا رہی ہے
ڈار سے بچھڑی ہوئی کونچ
اندھیرے میں کرلائے جا رہی ہے
گھنی چھاؤں سے ڈر لگ رہ ہے
دھوپ ہے کہ کھائے جا رہی ہے
میٹھی میٹھی، بھینی بھینی برسات
تشنگی کو بڑھائے جا رہی ہے
منصفوں کی قلم ہے یا کوئی تلوار
بس سروں کو گرائے جا رہی ہے
منڈیر سے گرا کے بجھے چراغوں کو
عثمان، ہوا دشمنی نبھائے جا رہی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







