تصور جہاں کا خوابیدہ ہمارا

Poet: Prof. Niamat Ali Murtazai By: Prof. Niamat Ali Murtazai, Karachi

تصور جہاں کا خوابیدہ ہمارا
عقیدہ سراپا شنیدہ ہمارا

ہوس نے بھرا ہے زہر زندگی میں
ہوا دل ہے خواہش گَزیدہ ہمارا

یوں تیرِ نظر آ لگا پار دل کے
کہ سر ہو گیا شوریدہ ہمارا

پڑی ہے مروت کی میت کفن میں
دہن ہو گیا ہے دریدہ ہمارا

سنی ہے خبر ان کے آنے کی ہم نے
چمن ہو گیا ہے دمیدہ ہمارا

غلامانہ سوچوں کے گہرے اثر سے
ذہن ہو گیا ہے خمیدہ ہمارا

چھپائیں گے ہاتھوں سے منہ کو گناہ بھی
کھلے گا حشر میں جریدہ ہمارا

نہیں ہے کوئی بات اپنے میں ایسی
ہوا نہ کہے گی قصیدہ ہمارا

ہوا کو حکم ہے کہ پتے گرا دو
پتہ لوں میں دل تھا بوسیدہ ہمارا

بنانے ہیں شاید یہاں پھول بوٹے
کوئی کر رہا دل کشیدہ ہمارا

نہیں مرتضائیؔ کو شکوہ کسی سے
مقدر ہوا ہے رمیدہ ہمارا

Rate it:
Views: 523
03 Feb, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL