تصور جہاں کا خوابیدہ ہمارا
Poet: Prof. Niamat Ali Murtazai By: Prof. Niamat Ali Murtazai, Karachiتصور جہاں کا خوابیدہ ہمارا
عقیدہ سراپا شنیدہ ہمارا
ہوس نے بھرا ہے زہر زندگی میں
ہوا دل ہے خواہش گَزیدہ ہمارا
یوں تیرِ نظر آ لگا پار دل کے
کہ سر ہو گیا شوریدہ ہمارا
پڑی ہے مروت کی میت کفن میں
دہن ہو گیا ہے دریدہ ہمارا
سنی ہے خبر ان کے آنے کی ہم نے
چمن ہو گیا ہے دمیدہ ہمارا
غلامانہ سوچوں کے گہرے اثر سے
ذہن ہو گیا ہے خمیدہ ہمارا
چھپائیں گے ہاتھوں سے منہ کو گناہ بھی
کھلے گا حشر میں جریدہ ہمارا
نہیں ہے کوئی بات اپنے میں ایسی
ہوا نہ کہے گی قصیدہ ہمارا
ہوا کو حکم ہے کہ پتے گرا دو
پتہ لوں میں دل تھا بوسیدہ ہمارا
بنانے ہیں شاید یہاں پھول بوٹے
کوئی کر رہا دل کشیدہ ہمارا
نہیں مرتضائیؔ کو شکوہ کسی سے
مقدر ہوا ہے رمیدہ ہمارا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






