تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا
Poet: Jalal Lakhnavi Poetry By: Jalal Lakhnavi, Lahoreتصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا
تجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا
کہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا
یہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا
پتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم
خبر تیری اسی سے پائی جس کو بے خبر پایا
دل بے تاب کے پہلو سے جاتے ہی گیا سب کچھ
نہ پائیں سینے میں آہیں نہ آہوں میں اثر پایا
وہ چشم منتظر تھی جس کو دیکھا آ کے وا تم نے
وہ نالہ تھا ہمارا جس کو سوتے رات بھر پایا
میں ہوں وہ ناتواں پنہاں رہا خود آنکھ سے اپنی
ہمیشہ آپ کو گم صورت تار نظر پایا
حبیب اپنا اگر دیکھا تو داغ عشق کو دیکھا
طبیب اپنا اگر پایا تو اک درد جگر پایا
کیا گم ہم نے دل کو جستجو میں داغ حسرت کی
کسی کو پا کے کھو بیٹھے کسی کو ڈھونڈھ کر پایا
بہت سے اشک رنگیں اے جلالؔ اس آنکھ سے ٹپکے
مگر بے رنگ ہی دیکھا نہ کچھ رنگ اثر پایا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






