تصویر شیشے نے دل مے بنا لی ہو گی
Poet: سید hammad razaنقوی By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadنیند مے جب تو نے کروٹ کھا لی ہو گی
رخسار سے چپکی تیری بالی ہو گی
اک ذرا خون کا جو ٹپکا ہو گا
پلک راہ مے نتھلی نے بچھا لی ہو گی
تو نے جب ہاتھ سے رخسار سنورا ہو گا
چومی کنگن نے تیرے ہونٹ کی لالی ہو گی
تو نے زلفوں مے جو کنگی کو گھمایا ہو گا
چاند نے بھی نظر تجھ پہ ڈالی ہو گی
تو نے آنکھ مے سنگھار کیا ہو گا رضا
تصویر شیشے نے دل مے بنا لی ہو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






