تصویر یار کو سینے سے لگائے رکھا
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTتصویر یار کو سینے سے لگائے رکھا
تنہائی کا گھر اسی طرح بسائے رکھا
ہم نے تصویر یار سے ہزار باتیں کیں
لیکن تصویر یار نے ہونٹوں کو دبائے رکھا
تیری تصویر بھی سنگدل ہے تیری طرح
جس نے شب بھر ہم کو جگائے رکھا
اے تصویر یار جا کر کہنا اسے
کیوں میرے دل ناداں کو جلائے رکھا
تصویر یار سے اٹھتی ہوئی خوشبو نے
ہر پل میری سانسوں کو مہکائے رکھا
تصویر یار سے کر دیا راز دل بیاں
اگرچہ یار سے یہ راز چھپائے رکھا
تمام شب تصویر یار سے ملاقات رہی
تمام شب تصویر یار نے بٹھائے رکھا
تصویر یار سے چھلکتے ہوئے جام نے
وقت سحر تلک مجھ کو لڑ کھڑائے رکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






