تعصب ہمیں توڑ رہا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreتعصب ہمیں توڑ رہا ہے
اپنے دیس کو توڑ پھوڑ رہا ہے
اتفاق میں برکت ہے
متفق رہنا قوت ہے
سندھ بلوچی پنجابی پٹھان
ہم سب سے ہے پاکستان
سارے صوبے سارے علاقے
سارے زبانیں سارے لبادے
سب اپنی پہچان ہیں
سندھی ہوں سرحدی ہوں
پنجابی یا پٹھان ہیں
سب ہی پاکستان ہیں
سب سے وطن کی شان ہے
سب پاکستان کی جان ہیں
پکستان ہماری شان پاکستان
اپنی پہچان پاکستان ہماری جان ہے
لیکن افسوس صد افسوس کے ہمیں
تعصب میں توڑ رہا ہے
اپنے دیس کو توڑ پھوڑ رہا ہے
اپنا ہنسنا رونا سانجھا
دکھ سکھ پانا کھونا سانجھا
پیار محبت سے رہنا ہے
ہنسی مذاق کو بھی سہنا ہے
مذاق اڑانا اور بات ہے
مذاق کرنا اور بات ہے
مذاق اڑانا ٹھیک نہیں
لیکن اپنوں سے اپنوں کے
کئے مذاق کو نہ سہہ پانا
لڑنے کو بازو چڑھانا
ہنسی مذاق پہ بگڑ جانا
غصہ کرنا تاؤ کھانا
یہ بھی کوئی بات ہے
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ
نکتے پہ نکتہ اٹھانا
یہ بھی کوئی بات ہے
تیرا میرا میرا تیرا
تو تو ہے اور میں میں ہہوں
کرے کر کے جھگڑا پڑھانا
یہ ہی تو ہے تعصب پھیلانا
آؤ پیار کی بولی بولیں
جھگڑا چھوڑیں سب سنگ ہولیں
مان لیں اس کہاوت کو
جان لیں اس حقیقت کو
تعصب میں توڑ رہا ہے
اپنے دیس کو توڑ پھوڑ رہا ہے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






