تلاش
Poet: MUHAMMAD IKRAM By: MUHAMMAD IKRAM, SHAHADRA LAHOREدنیا تیرے وجود کو کرتی رہی تلاش اکرام
ہم نے تیرے خیال کو محبت بنا لیا
ہم تو اپنی تنہائیوں سے تنگ آکر محبت کی تلاش میں نکلے تھے اکرام
مجھے تو محبت بھی ایسی ملی جو اور تنہا کر گئی
گھر بنا کے میرے دل میں وہ چھوڑ گیا اکرام
نہ خود رہتا ہے نہ کسی اور کو بسنے دیتا ہے تنہا اکرام
میں جب ڈوبا تو سمندر کو بھی حیرت ہوئی مجھ پر اکرام
عجیب شخص ہے کسی کو پکارتا ہی نہیں
کون دیوانہ ہنستا ہے رونے کے بعد
جینا پھر بھی پڑتا ہے سب کچھ کھونے کے بعد
سوچا آج دوستوں سے معافی مانگ لوں اکرام
شاید پھر میری صبح نہ آئے آج سونے کے بعد
مجھ سے اکثر وہ ایک ہی سوال پوچھتا ہے
تم مجھے اتنا پیار کیوں کرتے ہو
کوئی جا کر بتا دے اس کو اکرام
زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی
ہوا کے رُخ پہ جلتا ہے چراغ آرزو اب تک
دل برباد میں اب بھی اکرام کی یاد باقی ہے
دل کے دروازے ہمشہ کھلے رکھنا اکرام
کچھ لوگ دستک کے عادی نہیں ہوتے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






