تلاشِ گمشدہ
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiہے عمر بیس سال رنگ مثلِ گلاب ہے
جسکے گلے میں عشق و وفا کا عذاب ہے
وہ دل جو کھو گیا ہے نگا ہوں میں کسی کی
رسوائیاں اٹھائی ہیں جس کے لئے بڑی
تاریخ تھی وہ پہلی مہینہ بہار کا
دل کھو گیا تھا جس گھڑی مجھ بیقرار کا
آنکھوں میں جن کی گم ہوا ان سے ہے التجا
واپس کریں وہ دل مرا مجھ کو پئے وفا
ورنہ تو جرمانے میں دل ان کا چراؤں گا
یوں اپنے دل کی ظالموں قیمت چکاؤں گا
حضرات میرے دل کا پتہ جو بتائیں گے
منہ مانگا وہ انعام بھی یہاں سے پائیں گے
گر پڑھ لے دل یہ التجا آجائے میرے پاس
اس کو کہوں گا کچھ بھی نہ کہ ہوں بہت اداس
جس کو نثار دل کی خبر ہو ‘ وہ دے ادھر
کوئے وفا ‘ مکان محبت ‘ وفا نگر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






