تلواریں ٹوٹ جاتیں ہیں ،
Poet: SADIA IJAZ Hussain By: Sadia Ijaz Hussain (IH), Lahore,University Of Educationتلواریں ٹوٹ جاتیں ہیں ، سچ روٹھ جاتے ہیں
آنکھیں سوج جاتیں ہیں ،لب بھول جاتے ہیں
ذکر مُسترد ، خیال مُسترد ، مزاج مُختلف ،جناب مختلف
حیرت زدہ ہم !صنم بے زبان ، سوال مُنفرد جواب مُنتظر
رضاۓ حق ہے ، مومن ہے صابر ، کیں مراحل ، حواس گھائل
جو بھی چاہا ،خدا کی مرضی ، سَر خَم ہے، نشست قابض
سوال صد ہوں ، قائل کہاں ہم ؟ راہی ہے صابر ، دستور قائم
یقین پختہ ، الفاظ یکتا ، سعدیہٓ مسافر ، خدا ہے کافی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






