تم آ جا ؤ تو جان جا ؤ
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratرات کے پچھلے پہر میں اکژ
جب اُ س کی یادوں کا ساون آتا ہے
من کے اندر چپکے سے
میٹھا درد جگاتا ہے
ہم لمحہ لمحہ بکھرتے ہیں
ہم تنہا تنہا روتے ہیں
بے درد، بے رحم سی تھکن سا نسو ں کو بوجھل کرتی ہے
ہم سوچتے ہیں لمحہ بھر کو
کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلکوں کی اوٹ میں چھپے موتی
جذبات، محبت،چاہت اور درد
وہ سمجھ نہیں پایا کبھی
وہ آئے کبھی اور خود دیکھے
اس رات کے پچھلے پہر میں
جب ساری دنیا سوتی ہے
ہم اُس کی یاد میں روتے ہیں
ہم تنہا تنہا سوتے ہیں
بس اُس کے خواب سنجوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






