تم اس طرح نہ مجھے یاد آیا کرو
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, karachiتم اس طرح نہ مجھے یاد آیا کرو
میری نیندیں یوں نہ اڑایا کرو
بڑی مشکل سے دل بہلتا ہے
تم اس طرح نہ مجھے ستایا کرو
تم سے پیار کا یہ صلہ ملا مجھ کو
اپنے آپ کو کھونا پڑا مجھ کو
کسی کام میں اب دل لگتا نہیں
کوئی چہرہ اب اچھا لگتا نہیں
تم کو کیا بتاؤں میں کیا سے کیا ہوگیا
تمہارے پیار میں اب میں شرابی ہوگیا
بس فقط تم سے اتنی سی درخواست ہے
تم اس طرح مجھے نہ یاد آیا کرو
میری نیندیں یوں نہ اڑایا کرو
میرا دل ہے کسی کھلونا نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






